مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ایرانی صدر کے دورۂ آرمینیا سے متعلق صحافیوں کے سوال کے جواب میں کہا کہ صدر جمعہ، 16 اکتوبر کو آرمینیا کے دارالحکومت ایروان کا مختصر دورہ کریں گے، جہاں وہ حیاتیاتی تنوع کے کنونشن کے رکن ممالک کے سربراہانِ حکومت کے 17ویں اجلاس میں شرکت کریں گے۔ اجلاس کے موقع پر بعض شریک ممالک کے سربراہان سے گفتگو اور تبادلۂ خیال بھی متوقع ہے۔
اسماعیل بقائی نے قدرت اور ماحولیات کے تحفظ کے لیے اس بین الاقوامی معاہدے کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ حیاتیاتی تنوع سے متعلق اقوامِ متحدہ کا کنونشن 1992ء میں قائم کیا گیا تھا اور اس وقت اس کے 196 رکن ممالک ہیں۔ امریکہ کے علاوہ دنیا کے تمام ممالک اس معاہدے کے رکن ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایران اس معاہدے پر دستخط کرنے والے ابتدائی ممالک میں شامل تھا اور 1996ء میں اس کی باضابطہ رکنیت حاصل کی۔ گزشتہ تین دہائیوں کے دوران ایران نے حیاتیاتی تنوع اور ماحولیات کے تحفظ سے متعلق طریقۂ کار اور ضوابط کی تدوین میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔
بقائی نے امریکہ اور غاصب صیہونی حکومت کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی جارحیت کے دوران ایرانی ماحولیات اور خطے کے ماحول، بالخصوص خلیج فارس اور بحیرۂ عمان کو پہنچنے والے نقصانات کا حوالہ دیتے ہوئے زور دیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران ماحولیات کے خلاف کیے گئے جرائم کو دستاویزی شکل دینے اور انہیں اجاگر کرنے کے لیے ہر موقع سے فائدہ اٹھائے گا۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے باکو میں ایشیا میں تعامل اور اعتماد سازی کے اقدامات سے متعلق کانفرنس (سیکا) کے سربراہی اجلاس کے بارے میں ایک اور سوال کے جواب میں کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران مغربی ایشیا کے اہم اور مؤثر ممالک میں سے ایک کی حیثیت سے سیکا کے ساتویں اعلیٰ سطحی اجلاس میں شریک ہے، جو آج، 15 اکتوبر کو آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں منعقد ہو رہا ہے۔
انہوں نے بین الاقوامی اجلاسوں میں ایران کی بھرپور شرکت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد ملک کے مؤقف کو واضح کرنا اور بین الاقوامی اجلاسوں کی دستاویزات اور قراردادوں کی تدوین میں ایران کے مؤثر کردار کو یقینی بنانا ہے۔
بقائی نے مزید کہا کہ بین الاقوامی سفارتی سرگرمیوں میں مؤثر اور بھرپور شرکت ایرانی سفارت کاری کی پالیسی کا حصہ ہے اور سیکا کے اجلاسوں میں ایران کی مسلسل شرکت بھی اسی حکمتِ عملی کے تحت ہے۔
بقائی نے مزید بتایا کہ صدر اور وزیرِ خارجہ کے مصروف شیڈول کے پیشِ نظر، وزارتِ خارجہ کے نائب وزیر برائے قانونی و بین الاقوامی امور سیکا کے ساتویں اعلیٰ سطحی اجلاس میں ایران کی نمائندگی کر رہے ہیں۔
انہوں نے سیکا کے پس منظر اور اہمیت کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ایشیا میں تعامل اور اعتماد سازی کے اقدامات سے متعلق کانفرنس ایک علاقائی کثیرالجہتی ادارہ ہے، جسے تقریباً تین دہائیاں قبل قازقستان کی تجویز پر ایشیا میں امن و استحکام کو فروغ دینے اور ممالک کے درمیان اعتماد سازی کے مقصد سے قائم کیا گیا تھا۔ اس وقت اس کے 27 مستقل ارکان اور 10 مبصر ارکان ہیں، جبکہ آٹھ بین الاقوامی اور علاقائی تنظیمیں، جن میں اقتصادی تعاون تنظیم (ایکو) بھی شامل ہے، شراکت دار تنظیموں کی حیثیت سے اس کے ساتھ تعاون کرتی ہیں۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے مزید بتایا کہ وزیرِ خارجہ عباس عراقچی ہفتہ اور اتوار، 17 اور 18 اکتوبر کو اسلامی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے عراقی دارالحکومت بغداد کا دورہ کریں گے۔
آپ کا تبصرہ